Na Qarz e Nakhun Gul Nam Ko Lon Hoa Hon , Apni Girhein Aap Kholon
نہ قرضِ ناخنِ گُل نام کو لُوں
ہَوا ہوں، اپنی گرہیں آپ کھولوں
Na Qarz e Nakhun Gul Nam Ko Lon
Hoa Hon , Apni Girhein Aap Kholon
تری خوشبو بچھڑ جانے سے پہلے
میں اپنے آپ میں تجھ کو سمو لوں
کُھلی آنکھوں سے سپنے قرض لے کر
تری تنہائیوں میں رنگ گھولوں
ملے گی آنسوؤں سے تن کو ٹھنڈک
بڑی لُو ہے ذرا آنچل بھگو لوں
وہ اب میری ضرورت بن گیا ہے
کہاں ممکن رہا اُس سے نہ بولوں
میں چڑیا کی طرح دن بھر تھکی ہوں
ہُوئی ہے شام تو کُچھ دیر سو لوں
چلوں مقتل سے اپنے شام لیکن
میں پہلے اپنے پیاروں کو تو رو لوں
مرا نوحہ کناں کــوئی نہیں ہے
سو اپنے سوگ میں خُود بال کھولوں

Comments
Post a Comment