Sao Number
سوئمبر
Sao Number
میں اپنے غم کا سوئمبر رچانے بیٹھی تھی
اس ایک شرط پہ
جاؤ سبھی چلے جاؤ
دکھوں کے زرد پہاڑوں کو
کاٹ کر اُن سے
خوشی کی جوئے رواں
لا سکو تو لے آؤ
بہت سے لوگ مجھے فتح کرنے
آئے تھے
انہی میں ایک وہ چہرہ
کہ سب سے تنہا تھا
تمام شہر اُس اِک آدمی کو
تکتا تھا
عجیب شان تھی اُس کی
عجیب رنگ میں تھا
مرے لبوں سے
وہ پروانۂ اجل لے کر
چلا تو آج تلک لوٹ کر نہیں آیا
گلاب رنگ وہ چہرے، کنول کنول آنکھیں
وہ سب جوان رُتیں، دِلنشیں حسیں باتیں
مگر میں پِھر بھی خزاؤں کی اوڑھنی لیکر
کِسی بہار سے لمحے کے انتظار میں ہوں
سموم رنگ ہواؤ اگر وہ جان ِ جہاں
تمہیں کہیں بھی ملے گر تو اُس سے کہہ دینا
یہ میرے دُکھ ہیں
اِِنہیں تُو مجھے ہی سہنے دے
مرے عذاب
مرے واسطے ہی رہنے دے
پلٹ بھی آ
کہ تجھے اذن باریابی ہے
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment