Talash Gum Shuda Hon Main Bhatakta Rasta Hon Main
تلاشِ گمشدہ ہوں میں
بھٹکتا راستہ ہوں میں
Talash Gum Shuda Hon Main
Bhatakta Rasta Hon Main
وہ جس کی ابتدا تم ہو
اسی کی انتہا ہوں میں
دہکتی دھوپ میں سایہ
اندھیروں میں دیا ہوں میں
مجھے روکے کوئی کیسے
سمندر کی ہوا ہوں میں
پرانا بھید ہوں کوئی
مگر اب ہی کھلا ہوں میں
تمہیں لگتی ہوں تم جیسی
مگر تم سے جدا ہوں میں
وجودِ اعتنائی میں
بڑی بے اعتنا ہوں میں
فرارِِ جسمِ خاکی ہوں
بہت خود سے خفا ہوں میں
خود اپنا مسئلہ تم ہو
خود اپنی ہی سزا ہوں میں
مجھے تنہا نہیں سمجھو
کہ خود میں قافلہ ہوں میں
بیاں ہونے سے قاصر ہوں
وہ قصہ درد کا ہوں میں
نہ شاعر ہوں، نہ لیکھک ہوں
تمہارا آئینہ ہوں میں
ترا قصہ ادھورا ہے
کہانی کا سرا ہوں میں
تڑپ ہوں آرزوؤں کی
دلِ رنجش نما ہوں میں
مری نظروں میں تو کیا ہے
تری نظروں میں کیا ہوں میں
وہ ہیں باقاعدہ جھوٹے
مگر بے قاعدہ ہوں میں
مجھے روندو نہیں ایسے
کسی کا نقشِ پا ہوں میں
فوزیہ سعدی
Fozia Saadi

Comments
Post a Comment