Ye Bhi Mumkin Hai Keh Hum Phir Se Pokary Jaein Khuwahish Zeest Ki Padash Mein Mare Jaein
یہ بھی ممکن ہے کہ ہم پھر سے پکارے جائیں
خواہشِ زیست کی پاداش میں مارے جائیں
Ye Bhi Mumkin Hai Keh Hum Phir Se Pokary Jaein
Khuwahish Zeest Ki Padash Mein Mare Jaein
کتنے جنموں کا تسلسل ہے کہانی میری
اس میں اب کچھ نئے کردار اتارے جائیں
کتنی صدیوں سے یہاں صرف خدا آئے ہیں
اب تو انساں مری دھرتی پہ اتارے جائیں
تہمتیں ساری محبت کی یہیں چھوڑ کے جا
کیوں ترے ساتھ سفر میں یہ خسارے جائیں
وقت کی گرد میں دھندلا گئے جو برسوں سے
کبھی فرصت میں وہ چہرے بھی نکھارے جائیں
اے خدا تنگ ہوئی تیری زمیں لوگوں پر
اب بتا خود ہی، کہاں درد کے مارے جائیں
مل نہ پائیں گے کبھی، ساتھ چلیں گے دونوں
جس طرح سے کسی دریا کے کنارے جائیں
شازیہ رباب
Shazia Rubab

Comments
Post a Comment