Yeh Kaisi Khalish Hai Yeh Kaisi Chubhan Hai
یہ کیسی خلش ھے
یہ کیسی چبھن ھے
Yeh Kaisi Khalish Hai
Yeh Kaisi Chubhan Hai
کسک سی اٹھی ھے
سوئی سی چبھی ھے
تڑپ سی کیوں ھے من میں
کس کی کمی ھے جیون میں
یوں دل کو ، کب تک سہلایا جائے
کس کے سہارے خود کو بہلایا جائے
کوئی بھی تو نہیں ھے ، ہمارا
امید ھے کوئی ، نہ کوئی سہارا
اک بے بسی کا ھے ، عالم
تڑپا رہا مجھے ھے ، ظالم
ختم یہ جہاں ، کیوں نہیں ہوتا ؟
کہ دیکھوں ، اپنے لئیے کسی کو ، روتا
گھٹ ، گھٹ کے ، یوں جئیوں میں
زہر ، اپنے ہاتھوں سے ، پئیوں میں
زندگی کی بس ، یہی پر شام ، ہوجائے
ختم پھر یہی پر ، تماشا ، تمام ہو جائے ۔

Comments
Post a Comment