Yun Toh Lamhon Ke Is Tasalsul Mein Ab Se Pehle Bhi Umar Kat'ty Thi
ایک شام
Aik Shaam
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں
اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
Yun Toh Lamhon Ke Is Tasalsul Mein
Ab Se Pehle Bhi Umar Kat'ty Thi
موم بتی کی روشنی میں نظر
حافظے کے ورق الٹتی تھی
ریت کے سوگوار ٹیلوں پر
چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی
آج لیکن تھکے ہوے دل پر
جسم کا تار تار بھاری ہے
شام کی دم بخود ہواؤں پر
صبح کا انتظار بھاری ہے
مقبروں سے اٹھی ہوئی آندھی
ٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے
خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید
پے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے
دم بخود خامشی میں دھیرے سے
زرد پتے قدم اٹھاتے ہیں
یاد کے کارواں اندھیرے میں
خواب کی طرح سرسراتے ہیں
کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے
اپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں
دل کی قربان گاہ کے آگے
ایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں
کسی پیپل کے نرم سائے میں
کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں
روح کے کاسۂ گدائی کو
چار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں
سوچتاہوں کہ اس دیار سے دور
ایک ایسا بھی دیس ہے جس کی
رات تاروں میں سج کے آئے گی
صبح ہو گی تو گھر کے گوشوں میں
تیری معصوم مسکراہٹ کی
نرم سی دھوپ پھیل جائے گی
مصطفی زیدی
Mustafa Ziadi

Comments
Post a Comment