Asar Usko Zara Nahi Hota Ranj Rahat Fiza Nahi Hota
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا Asar Usko Zara Nahi Hota Ranj Rahat Fiza Nahi Hota بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلوم حرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر دل کسی کام کا نہیں ہوتا امتحاں کیجیے مرا جب تک شوق زور آزما نہیں ہوتا ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا آہ طول امل ہے روز فزوں گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا حال دل یار کو لکھوں کیوں کر ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا رحم کر خصم جان غیر نہ ہو سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو دست عاشق رسا نہیں ہوتا چارۂ دل سوائے صبر نہیں سو تمہارے سوا نہیں ہوتا کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ صنم آخر خدا نہیں ہوتا مومن خاں مومن Momin Khan Momin دور حیات ؛ 1800 - 1852 | دلی, انڈیا