Aap Kia Janein Mujh Ko Samajhty Hein Kia Main Toh Kuch Bhi Nahi
آپ کیا جانیں مجھ کو سمجھتے ہیں کیا
میں تو کچھ بھی نہیں
Aap Kia Janein Mujh Ko Samajhty Hein Kia
Main Toh Kuch Bhi Nahi
اس قدر پیار ،اتنی بڑی بھیڑ کا،
میں رکھوں گا کہاں؟
اس قدر پیار رکھنے کے قابل، نہیں میرا دل ،میری جاں
مجھ کو اتنی محبت نہ دو دوستو
سوچ لو دوستو!
پیار اک شخص کا بھی اگر مل سکے
تو بڑی چیز ہے زندگی کے لیے
آدمی کو مگر یہ بھی ملتا نہیں، یہ بھی ملتا نہیں
مجھ کو اتنی محبت ملی آپ سے
یہ میرا حق نہیں میری تقدیر ہے
میں زمانے کی نظروں میں کچھ بھی نہ تھا
میری آنکھوں میں اب تک وہ تصویر ہے
اس محبت کے بدلے میں کیا نذر دوں
میں تو کچھ بھی نہیں
عزتیں شہرتیں چاہتیں الفتیں
کوئی بھی چیز دنیا میں رہتی نہیں
آج میں ہوں جہاں کل کوئی اور تھا
یہ بھی اک دور ہے، وہ بھی اک دور تھا
آج اتنی محبت نہ دو دوستو
کہ میرے کل کی خاطر نہ کچھ بھی رہے
آج کا پیار تھوڑا بچا کر رکھو
میرے کل کے لیے
کل جو گمنام ہے، کل جو سنسان ہے
کل جو انجان ہے، کل جو ویران ہے
میں تو کچھ بھی نہیں ، میں تو کچھ بھی نہیں
ساحر لدھیانوی
Sahir Ludhianvi

Comments
Post a Comment