Kaise Maghroor Shahinshahon Ki Taskeen Ke Liye Salha Sal Haseenaoun Ke Bazar Lagy
کیسے مغرور شہنشاہوں کی تسکیں کے لیے
سالہا سال حسیناؤں کے بازار لگے
Kaise Maghroor Shahinshahon Ki Taskeen Ke Liye
Salha Sal Haseenaoun Ke Bazar Lagy
کیسے بہکی ہوئی نظروں کے تعیش کے لیے
سرخ محلوں میں جواں جسموں کے انبار لگے
سہمی سہمی سی فضاؤں میں یہ ویراں مرقد
اتنا خاموش ہے فریاد کناں ہو جیسے
سرد شاخوں میں ہوا چیخ رہی ہے ایسے
روح تقدیس و وفا مرثیہ خواں ہو جیسے
تو مری جان مجھے حیرت و حسرت سے نہ دیکھ
ہم میں کوئی بھی جہاں نور و جہاں گیر نہیں
تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہے
تیرے ہاتھوں میں مرے ہاتھ ہیں، زنجیر نہیں
ساحر لدھیانوی
Sahir Ludhianvi

Comments
Post a Comment