Koi Dildar , Na Ghamkhuwar Na Piyara Hoga Kaise Us Shehar Khamoshan Mein Guzara Hoga
کوئی دلدار، نہ غمخوار نہ پیارا ہو گا
کیسے اُس شہرِ خموشاں میں گزارا ہو گا
Koi Dildar , Na Ghamkhuwar Na Piyara Hoga
Kaise Us Shehar Khamoshan Mein Guzara Hoga
آج کہہ ڈالو سبھی دل میں چھپی باتیں، کل
تم کو بس ساعتِ رفتہ کا سہارا ہو گا
ساتھ ہو گی کسی حسرت کی پشیمانی اور
ایک بستر جو تہہِ خاک ہمارا ہو گا
اتنی عجلت میں جو اِس پار سے رخصت لی ہے
منتظر کوئی تو اُس پار تمہارا ہو گا
دب گئی ہو گی صدا شور میں دنیا کے غزلؔ
جانے والے نے وگرنہ تو پکارا ہو گا
لبنیٰ غزلؔ
Lubna Ghazal

Comments
Post a Comment