Dil o Nigah Ka Mousam Badal Bhi Jata Hai Na Aise Dekh Keh Dil Ne Machal Bhi Jata Hai
دِل و نگاہ کا موسم بدل بھی جانا ہے
نہ ایسے دیکھ کہ دِل نے مچل بھی جانا ہے
Dil o Nigah Ka Mousam Badal Bhi Jata Hai
Na Aise Dekh Keh Dil Ne Machal Bhi Jata Hai
پکڑ ہی لینی ہے لو دِل نے تیری لو سے کبھی
پھر اِک چراغِ محبت میں ڈھل بھی جانا ہے
کسی نے آنا ہے چُپ چاپ زندگی میں مری
پھر ایک آندھی کی صُورت نکل بھی جانا ہے
ہمیں اُداس تو کرتے ہو اشتیاق کے ساتھ
کبھی بتاؤ اُداسی کا حل بھی جانا ہے
ہدف نہیں ہے ترا اِس لیے ہدف پہ نہ آ
ہمارے ہاتھ سے یہ تیر چل بھی جانا ہے
یہ حُسن و ناز ہیں عُمرِ رواں کے سائے میں
اِس ایک مچھلی نے دریا نِگل بھی جانا ہے
🌹 کہیں پہ جانے کو مظہرؔ قدم نہیں اُٹھتے
مگر کہیں پہ ہمیں سر کے بَل بھی جانا ہے
آغاابن مظہر
Aagha Bin Mazhar

Comments
Post a Comment