Hazar Ashk Palak Par Sawar Karti Hai Jab Aankhein Dil Ka Safar Ikhteyar Karti Hai
ہزار اشک پلک پر سوار کرتی ہیں
جب آنکھیں دل کا سفر اختیار کرتی ہیں
Hazar Ashk Palak Par Sawar Karti Hai
Jab Aankhein Dil Ka Safar Ikhteyar Karti Hai
وہ تیرے قرب کی خوشبو میں بھیگتی شامیں
ہمارے دل کو بہت بیقرار کرتی ہیں
عجب خمار ان آنکھوں میں ہے محبت کا
یہ تیرے زخم بھی تارے شمار کرتی ہیں
ابھرنے دیتے نہیں دل کی حسرتوں کو ہم
اگرچہ حیلے بہانے ہزار کرتی ہیں
ہمارے بس کا یہ دریائے روز و شب تو نہیں
ہمیں یہ ماں کی دعائیں ہی پار کرتی ہیں
یہ آنکھیں صدیوں سے بے نور ہیں مگر اب بھی
کھُلی ہیں اور ترا انتظار کرتی ہیں
نصیب میں مجھے روزانہ ملتی ہیں مہوش
یہ نفرتیں بھی بہت مجھ سے پیار کرتی ہیں
مہوش ملک
Mehwish Malik

Comments
Post a Comment