Phool Bhaijy Hein Us Ne Nargas Ke Jinko Chu Kar Bury Hoi Hon Main
پھول بھیجے ہیں اُس نے نرگس کے
جن کو چُھو کر ہری ہوئی ہوں میں
Phool Bhaijy Hein Us Ne Nargas Ke
Jinko Chu Kar Bury Hoi Hon Main
کتنی صدیوں سے انتظار میں ہوں
طاقچے پر دھری ہوئی ہوں میں
ہاتھ خالی ہیں ہر خوشی سے مگر
آنسوؤں سے بھری ہوئی ہوں میں
زردیاں دیکھ لی ہیں چہرے کی
آئینوں سے ڈری ہوئی ہوں میں
لوگ سمجھے کہ موت آئی ہے
میں یہ سمجھی، بری ہوئی ہوں میں
میرے گُلفام صرف تیرے لیے
اِس جنم میں پری ہوئی ہوں میں
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment