Posts

Barish Achanak Tez Ho Gai Hai

Image
بارش اچانک تیز ہو گئی ہے Barish Achanak Tez Ho Gai Hai تمھیں اُن خطوں کے ملنے کی امید ہے جو کبھی پوسٹ نہیں کیے گئے اور میں وہ نظمیں بھیجتا رہتا ہوں جو کبھی لکھی نہیں جائیں گی ہم دونوں ایک طوالت پذیر خواب کی واماندگی میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جاگ رہے ہیں اور اس خواب سے باہر طلوع و غروب کا کھیل جاری ہے دن اور زمانہ کوئی بھی ہو محبت کرنے والوں کے لیے رک کر نہیں دیکھتا کچھ دن طلوع ہونے سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں اور کچھ محبتیں پروان چڑھے بغیر ختم ہو جاتی ہیں جیسے کچھ خط لکھے بغیر پوسٹ کر دیے جاتے ہیں اور کچھ لکھے پڑے رہ جاتے ہیں نصیر احمد ناصر Naseer Ahmad Naseer

Hawa Ke Wastay Ik Kam Chodh Aaya Hon Diya Jala Ke Sar Sham Chodh Aaya Hon

Image
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں Hawa Ke Wastay Ik Kam Chodh Aaya Hon Diya Jala Ke Sar Sham Chodh Aaya Hon کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں کوئی چراغ سر رہگزر نہیں نہ سہی میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے جہاں پہ گردش ایام چھوڑ آیا ہوں مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے، وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں اعجازؔ رحمانی Aijaz Rehmani

Dil Ko Ajeeb Sa Sukoon Daiti Hai Jaise Thaki Hoi Rooh Ke Liye Pani Ka Pehla Ghont Paidon Ke Zard Patay Waqt Ke Guzarne Ki Kahani Sunatay Hein

Image
ستمبر کی ہوا  Setamber Ki Hawa   دل کو عجیب سا سکون دیتی ہے جیسے تھکی ہوئی روح کے لیے پانی کا پہلا گھونٹ پیڑوں کے زرد پتے وقت کے گزرنے کی کہانی سناتے ہیں Dil Ko Ajeeb Sa Sukoon Daiti Hai Jaise Thaki Hoi Rooh Ke Liye Pani Ka Pehla Ghont Paidon Ke Zard Patay Waqt Ke Guzarne Ki Kahani Sunatay Hein فیض اللہ خان Faizullah Khan

Main Teri Ik War Nahi Mini Nahi Mani, Main Haar Nahi Mani

Image
میں تیری اک وار نہیں منی نہیں منی، میں ہار نہیں منی Main Teri Ik War Nahi Mini Nahi Mani, Main Haar Nahi Mani جہنے حق دی گل نہیں کیتی اوہدے سر دستار نہیں منی کنڈیاں نال کھلوتے رہ گئے پھُلاں دی مہکار نہیں منی گھر میں ویر دے ناویں کیتا ویہڑے وچ دیوار نہیں منی اپنی گل دا پکا ساں میں تاں اوہدی تکرار نئیں منی حنیف صوفی Haneef Sofi

Toot'ta Dil Sanbhalne Ke Liye Shukria Hijar Talne Ke Liye

Image
ٹوٹتا دل سنبھالنے کے لیے شکریہ ہجر ٹالنے کے لیے Toot'ta Dil Sanbhalne Ke Liye Shukria Hijar Talne Ke Liye اس نے آسان کردیا رستہ ایک مشکل میں ڈالنے کے لیے آخرش زخم کھا لیے ہم نے آئینوں کو اجالنے کے لیے چاک پر دھر دیاگیا اک روز مجھ کو کوزے میں ڈھالنے کے لیے دل سے رخصت کیا محبت کو اک غلط فہمی پالنے کے لیے ہاتھ برباد کر لیے تم نے مجھ پہ کیچڑ اچھالنے کے لیے کومل جوئیہ Komal Joya

Aaj Roothay Hoe Sajan Ko Buhat Yaad Kia Apne Ujday Hoe Gulshan Ko Buhat Yaad Kia

Image
آج رُوٹھے ہُوئے ساجن کو  بہت یاد کیا اپنے اُجڑے ہُوئے گُلشن کو بہت یاد کیا Aaj Roothay Hoe Sajan Ko Buhat Yaad Kia Apne Ujday Hoe Gulshan Ko Buhat Yaad Kia جب کبھی گردشِ تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں  گیسُوئے یار کی اُلجھن کو ،،، بہت یاد کیا شمع کی جوت پہ جلتے ہُوئے پروانوں نے  اِک  تِرے  شعلۂ  دامن  کو  بہت  یاد  کیا جس کے ماتھے پہ نئی صُبح کا جُھومر ہو گا  ہم نے اُس وقت کی دُلہن  کو  بہت  یاد  کیا آج ٹُوٹے ہُوئے سپنوں کی بہت یاد آئی  آج بِیتے ہُوئے ساون کو بہت یاد کیا ہم سرِ طور بھی مایوسِ تجلّی ہی رہے   اُس درِ یار کی چلمن کو بہت یاد کیا  مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغرؔ ہم  اسیروں  نے  نشیمن  کو  بہت  یاد  کیا ساغرؔ صدیقی Saghar Siddiqui

Shab Gham Mujh Se Mil Kar Aise Roi Mila Ho Jaise Sadion Bad Koi

Image
شبِ غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ملا ھو جیسے صدیوں بعد کوئی Shab Gham Mujh Se Mil Kar Aise Roi Mila Ho Jaise Sadion Bad Koi ھمیں اپنی سمجھ آتی نہیں خود ھمیں کیا خاک سمجھائے گا کوئی قریب منزل پہ آ کر دم ھے ٹوٹا کہاں آ کر میری تقدیر سوئی کچھ ایسے آج انکی یاد آئی ملی ھو جیسے دولت ایک کھوئی سجا رکھا قفس ھے خون و پر سے کہ اب تو بجلیاں لے آئے کوئی شبِ غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ملا ھو جیسے صدیوں بعد کوئی سعد گیلانی Saad Gailani