Mehik Churana Maqsad Hai , Hansta Hon Un Ki Chalon Par Titlian Baithna Chahti Hein Jo Tere Gore Galon Par
مہک چرانا مقصد ہے، ہنستا ہوں ان کی چالوں پر تتلیاں بیٹھنا چاہتی ہیں جو تیرے گورے گالوں پر Mehik Churana Maqsad Hai , Hansta Hon Un Ki Chalon Par Titlian Baithna Chahti Hein Jo Tere Gore Galon Par درد بھری گلکاری کی ہے مجھ پر دشتِ فرقت نے اپنے مرہمی قرب کو رکھ دے میرے ہجر کے چھالوں پر دل میں جلتا امیدوں کا ہر دیپک بجھنے کو ہے آنکھیں گریہ کرتی ہیں کچھ زنگ پکڑتے تالوں پر دن روشن ہے تیرے مہکے تن کی اجلی رنگت سے رات نے نظریں گاڑیں تیرے لمبے کالے بالوں پر تیرے جسم کو چھونے والی ہوا میں سانسیں لیتے ہیں رشک آتا ہے مجھ کو تیرے شہر میں رہنے والوں پر صبح کے ہوتے ہی سورج کی ہر البیلی اجلی کرن ایک اک کر کے بوسہ دیتی ہے پھولوں سے گالوں پر رستے کے آوارہ پتھر رشکِ قمر ہو جائیں گے جس دن اس کی نظر پڑے گی ہم سے خستہ حالوں پر