Woh Aik Shakhs Bhulaya Nahi Gaya Mujh Se Keh Yaar e Hijar Uthaya Nahi Gaya Mujh Se
وہ ایک شخص بھلایا نہیں گیا مجھ سے کہ بارِ ہجر اٹھایا نہیں گیا مجھ سے Woh Aik Shakhs Bhulaya Nahi Gaya Mujh Se Keh Yaar e Hijar Uthaya Nahi Gaya Mujh Se سنا ہے جب سے تمہیں دستکیں پسند نہیں تمہارے در پہ پھر آیا نہیں گیا مجھ سے اسے تو صرف منافق ہی راس آتے تھے مگر یہ بھیس بنایا نہیں گیا مجھ سے میں زندگی کے مسائل میں ایسی الجھی ہوں تمہارا ہجر منایا نہیں گیا مجھ سے جو خود کو بانٹتا پھرتا ہے ساری دنیا میں متاع جاں تھا کمایا نہیں گیا مجھ سے میں اس کے جھوٹ پہ اتنا یقین کرتی تھی کہ پھر جو سچ تھا، نبھایا نہیں گیا مجھ سے جب اس نے حال بھی رسماً ہی میرا پوچھا تو "میں جاں بہ لب ہوں"، بتایا نہیں گیا مجھ سے راحیلہ اشرف Raheela Ashraf