Posts

Dukh fasaana nahin ke tujh se kahein Dil bhi maana nahin ke tujh se kahein

Image
Dukh fasaana nahin ke tujh se kahein Dil bhi maana nahin ke tujh se kahein Aaj tak apni be kali ka sabab Khud bhi jaana nahin ke tujh se kahein.

Agar Talash Karon Koi Mil Hi Jaye Ga Magar Tumhary Tarah Kon Mujh Ko Chahe Ga

Image
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا Agar Talash Karon Koi Mil Hi Jaye Ga Magar Tumhary Tarah Kon Mujh Ko Chahe Ga تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں اگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا بشیر بدر Basheer Badar

Dil o Nigah Ka Mousam Badal Bhi Jata Hai Na Aise Dekh Keh Dil Ne Machal Bhi Jata Hai

Image
دِل و نگاہ کا موسم بدل بھی جانا ہے نہ ایسے دیکھ کہ دِل نے مچل بھی جانا ہے Dil o Nigah Ka Mousam Badal Bhi Jata Hai Na Aise Dekh Keh Dil Ne Machal Bhi Jata Hai  پکڑ ہی لینی ہے لو دِل نے تیری لو سے کبھی پھر اِک چراغِ محبت میں ڈھل بھی جانا ہے کسی نے آنا ہے چُپ چاپ زندگی میں مری پھر ایک آندھی کی صُورت نکل بھی جانا ہے  ہمیں اُداس تو کرتے ہو اشتیاق کے ساتھ کبھی بتاؤ اُداسی کا حل بھی جانا ہے ہدف نہیں ہے ترا اِس لیے ہدف پہ نہ آ ہمارے ہاتھ سے یہ تیر چل بھی جانا ہے یہ حُسن و ناز ہیں عُمرِ رواں کے سائے میں اِس ایک مچھلی نے دریا نِگل بھی جانا ہے 🌹 کہیں پہ جانے کو مظہرؔ قدم نہیں اُٹھتے مگر کہیں پہ ہمیں سر کے بَل بھی جانا ہے آغاابن مظہر Aagha Bin Mazhar

Kion Parakty Ho Sawalon Se Jawabon Ko Adeem Hont Achay Hon Toh Samjho Keh Sawal Acha Hai

Image
پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر اور ڈراما نویس جنہوں نے عوامی تجربات کو آواز دی۔ مختصر تعارف تخلص :عدیم اصلی نام :فصیح الدین پیدائش :یکم اگست، 1946| فیروز پور, پنجاب، ہندوستان وفات :5، نومبر،2001 | شکاگو, ریاستہائے متحدہ امریکا 1970ءمیں لاہور آ گئے۔اس دوران انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے لئے گیت لکھے ۔ان کا کلام ادبی جریدوں میں چھپنے لگا۔ عدیم ہاشمی نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے ایک ڈرامہ ،آغوش، بھی تحریر کیا۔اور مشہور ڈرامہ سیریز گیسٹ ہاؤس کے لئے بھی کچھ ڈرامے تحریر کئے۔ بعد ازاں راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ 2001ءمیں اپنےعزیز اور ممتاز شاعر افتخار نسیم کے پاس امریکا چلے گئے۔عدیم ہاشمی اردو کے جدید شعراء میں ہوتا ہے۔ عدیم ہاشمی اردو ادب کے افق پر چمکنے والے ان ستاروں میں شمار ہوتے ہیں ۔جنکی تعریف بیان کرتے ہوئے تاریخ کی سیاہی ختم ہو جائے ۔لیکن حق ادا نہیں ہو سکے گا ۔ 60اور 70کی دہائی میں پاکستان میں جدید غزل کے رجحانات منظرِعام پر آئے اور کئی ایک شعرا نے اس میدان میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑے۔ ظفر اقبال کا نام اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ ان کے علاوہ خالد احمد‘ نجیب احمد‘ صابر ظفر‘ جاوید ...

Na Kisi Ki Aankh Ka Noor Hon , Na Kisi Ke Dil Ka Qarar Hon Jo Kisi Ke Kam Na Aa Saky , Main Aik Musht e Ghubar Hon

Image
نہ کسی کی آنکھ کا نُور ہوں، نہ کسی کے دِل کا قرار ہوں  جو کسی کے کام نہ آ سکے، میں وہ ایک مُشتِ غُبار ہوں Na Kisi Ki Aankh Ka Noor Hon , Na Kisi Ke Dil Ka Qarar Hon Jo Kisi Ke Kam Na Aa Saky , Main Aik Musht e Ghubar Hon نہ میں مضطر ان کا حبیب ہوں، نہ میں مضطر ان کا رقیب ہوں جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں، جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں مرا رنگ روپ بگڑ گیا‘ مرا بخت مجھ سے بچھڑ گیا جو چمن خزاں سے اجڑ گیا، میں اسی کی فصل بہار ہوں اے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں کوئی شمع آ کے جلائے کیوں کہ میں بے کسی کا مزار ہوں مضطر خیر آبادی Maztar Khair Abadi

Mian e Arsa e Mout o Hayat Raqs Mein Hai Akela Main Nahi , Kul Kaaenaat Raqs Mein Hai

Image
میانِ عرصۂ موت و حیات رقص میں ہے اکیلا میں نہیں، کل کائنات رقص میں ہے Mian e Arsa e Mout o Hayat Raqs Mein Hai Akela Main Nahi , Kul Kaaenaat Raqs Mein Hai ہر ایک ذرہ ہر اک پارۂ زمین و زمان کسی کے حکم پہ، دن ہو کہ رات، رقص میں ہے اوطاق ِکُنگرۂ عرش کے چراغ کی لو کسی گلی کے فقیروں کے ساتھ رقص میں ہے مجال کس کی جنبش کرے رضا کے بغیر جو رقص میں ہے، اجازت کے ساتھ رقص میں ہے وہ قونیا ہو کہ بغداد ہو کہ سہون ہو زمین اپنے ستاروں کے ساتھ رقص میں ہے میں اپنے شمس کی آمد کا منتظر تھا سو __ اب مرے وجود میں رومی کی ذات رقص میں ہے مزارِ شمس پہ رومی ہیں حجتِ آخر کہ جو جہاں بھی ہے، مرشد کے ساتھ رقص میں ہے سنائی ہوں کہ وہ عطّار ہوں کہ رومی ہوں ہر اک مقام پہ اک خوش صفات رقص میں ہے یہ جذب و شوق، یہ وارفتگی یہ وجد و وفُور میں رقص میں ہوں کہ کُل کائنات رقص میں ہے افتخار عارف Iftekhar Arif

Mausam Bahut Thanda Hai Kion Na Kuch Khuwahishon Ko Aag Lagayi Jaye

Image