Posts

Showing posts from February, 2026

Kaash Woh Pehle Muhabbat Ke Zamany Aate Chand Se Log Mera Chand Sajany Aate

Image
کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے چاند سے لوگ مرا چاند سجانے آتے Kaash Woh Pehle Muhabbat Ke Zamany Aate Chand Se Log Mera Chand Sajany Aate رقص کرتی ہوئی پھر باد بہاراں آتی پھول لے کر وہ مجھے خود ہی بلانے آتے ان کی تحریر میں الفاظ وہی سب ہوتے یوں بھی ہوتا کہ کبھی خط بھی پرانے آتے ان کے ہاتھوں میں کبھی پیار کا پرچم ہوتا میرے روٹھے ہوئے جذبات منانے آتے بارشوں میں وہ دھنک ایسی نکلتی اب کے جس سے موسم میں وہی رنگ سہانے آتے وہ بہاروں کا سماں اور وہ گل پوش چمن ایسے ماحول میں وہ دل ہی دکھانے آتے ہر طرف دیکھ رہے ہیں مرے ہم عمر خیال راہ تکتی ہوئی آنکھوں کو سلانے آتے

Mukamal Zabt Bhi Kar Lein Tou Yeh Sadmay Nahi Jate Keh Tujh Se Ab Humare Raaz Bhi Rakhay Nahi Jate

Image
مکمل ضبط بھی کر لیں تو یہ صدمے نہیں جاتے کہ تجھ سے اب ہمارے راز بھی رکھے نہیں جاتے Mukamal Zabt Bhi Kar Lein Tou Yeh Sadmay Nahi Jate Keh Tujh Se Ab Humare Raaz Bhi Rakhay Nahi Jate ہمارے سر کی تہمت ہے تمہارے پیر کے چھالے ہمارے گھر کو کوئی راستے کچے نہیں جاتے شکستہ عشق کی یادیں چلو اب دفن کرتے ہیں جنازے گھر میں اتنی دیر تک رکھے نہیں جاتے ہمارا دل بھی اس اجڑے ہوئے مسکن کے جیسا ہے گلی کے جس گھروندے میں کبھی بچے نہیں جاتے یقیں مانو اسے کافی سلیقہ ہے محبت کا کہ ہم پتھر دلوں والے یوںہی پگھلے نہیں جاتے تو یہ سادہ دلی لے کر کبھی بھی عشق مت کرنا کہ پتے کھیلنے ہرگز کبھی اندھے نہیں جاتے عمران نذیر مانی Imran Nazeer Mani

Zindagi , Pavoun Na Dhar Janib e Anjam Abhi Mere Zimay Hein Adhore Se Kai Kam Abhi

Image
زندگی، پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی میرے ذمّے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی Zindagi , Pavoun Na Dhar Janib e Anjam Abhi Mere Zimay Hein Adhore Se Kai Kam Abhi ابھی تازہ ہے بہت، گھاؤ بِچھڑ جانے کا گھیر لیتی ہے، تِری یاد سَرِشام ابھی اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے تیرے بِیمار کو آیا نہیں آرام ابھی رات آئی ہے تو کیا، تُم تو نہیں آئے ہو میری قِسمت میں، کہاں لِکھّا ہے آرام ابھی جان دینے میں کرُوں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں مُجھ تک آیا ہے، مِری جاں! تِرا پیغام ابھی طائرِ دِل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی توڑ سکتا ہے مِرا دِل یہ زمانہ، کیسے میرے سِینے میں دھڑکتا ہے تِرا نام ابھی میرے ہاتھوں میں ہے موجُود تِرے ہاتھ کا لمس دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کُہرام ابھی میری نظریں کریں کیسے تِرے چہرے کا طواف میری آنکھوں نے تو، باندھے نہیں احرام ابھی

Us Ko Pana Tou Khair Bas Mein Nahi Zindagi Tu Bhi Dastras Mein Nahi

Image
اس کو پانا تو خیر بس میں نہیں زندگی تو بھی دسترس میں نہیں Us Ko Pana Tou Khair Bas Mein Nahi Zindagi Tu Bhi Dastras Mein Nahi لکھ رہی ہوں جو کہہ نہیں سکتی قید میں ہوں مگر قفس میں نہیں جو سہولت ہے تجھ سے کہنے میں وہ کسی اور داد رس میں نہیں کب کہا مجھ کو اولین میں رکھ دکھ تو یہ ہے کہ پہلے دس میں نہیں جو سکوں روح کی پناہ میں ہے وہ سکوں جسم کی ہوس میں نہیں رنگ دنیا میں جو بھرے رب نے وہ کسی اور کینوس میں نہیں عاصمہ فراز Asma Fraz

Hasti Ko Meri Masti e Paimana Bana Dy Ae Be-Khabri Hasil Maikhana Bana Dy

Image
ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے اے بے خبری، حاصل میخانہ بنا دے Hasti Ko Meri Masti e Paimana Bana Dy Ae Be-Khabri Hasil Maikhana Bana Dy طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کا جو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے اے برہمن، اک دن بتِ پندار کو اپنے توڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے کہہ دو کہ بہار آئے تو بیکار نہ بیٹھے دیوانہ بنے یا مجھے دیوانہ بنا دے دیوانگئ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

Kahin nikalna bhi parta hai ghamkade se humen Gham e jahan se bhi aksar nibhani parti hai

Image
کہیں نکلنا بھی پڑتا ہے غمکدے سے ہمیں غمِ جہاں سے بھی اکثر نبھانی پڑتی ہے Kahin nikalna bhi parta hai ghamkade se humen Gham e jahan se bhi aksar nibhani parti hai اعتبار ساجدؔ Aitbar Sajid  

Kuch Aise Dhang Se Roya Keh Muatbar Bhi Laga Woh Aik Shakhs Magar Mubtalaye Shar Bhi Laga

Image
کچھ ایسے ڈھنگ سے رویا کہ معتبر بھی لگا وہ ایک شخص مگر مبتلائے شَر بھی لگا Kuch Aise Dhang Se Roya Keh Muatbar Bhi Laga Woh Aik Shakhs Magar Mubtalaye Shar Bhi Laga کبھی کبھار پرندوں سے آپ بیتی کہی کبھی کبھار مجھے دشت اپنا گھر بھی لگا میں اتنی تنگ جگہ سے گزر کے آیا ہوں گھِسے ہیں پاؤں بھی اور آسماں پہ سر بھی لگا ہمارے جسم کو نوچو تمام جانب سے ادھر لگا چکا ہے زخم؟ اب ادھر بھی لگا بنائے بیٹھا ہوں کاغذ پہ ایک فرضی مکان اور اپنے آپ سے کہتا ہوں اس میں در بھی لگا کسی کے ساتھ محبت کی بات کرتے ہوئے ذرا سا خوش بھی ہوئے، ٹھیک ٹھاک ڈر بھی لگا اداس میں بھی تھا اور اس پہ مستزاد تھا یہ خفا خفا سا اداسی بھرا سفر بھی لگا ہماری سمت سے آزاد ہے سو اپنا دل کسی کو سونپ، کہیں پھینک یا جدھر بھی لگا فیضان احمد فیضی Faizan Ahmad Faizi

Dunya Mein Bas Ik Shakhs Humara Nahi Hota Hota Bhi Agar Hai Tou Sara Nahi Hota

Image
دنیا میں بس اک شخص ہمارا نہیں ہوتا ہوتا بھی اگر ہے تو وہ سارا نہیں ہوتا Dunya Mein Bas Ik Shakhs Humara Nahi Hota Hota Bhi Agar Hai Tou Sara Nahi Hota تم لوٹ تو آئے ہو مگر کارِ محبت اک بار ہی ہوتا ہے دوبارہ نہیں ہوتا بکھرے ہوئے اجڑے ہوئے ٹھکرائے ہوئے سے ہم ایسوں کا کوئی بھی سہارا نہیں ہوتا اب دل میں نہیں ہے ترے دیدار کی حسرت بدلے ہوئے موسم کا نظارہ نہیں ہوتا اچھے ہیں وہ دشمن ہی جو رکھتے ہیں خبر تو اپنوں کو تو اتنا بھی گوارا نہیں ہوتا رہتی یونہی تِشنہ سی کنارے پہ کھڑی میں دریا نے اگر مجھ کو پکارا نہیں ہوتا دو بار تو کر اپنا کرم رزق کے مالک اک وقت کی روٹی پہ گزارا نہیں ہوتا میں توڑ کے لاتی ہوں فلک سے اسے شفقت آتی ہوں زمیں پر تو ستارا نہیں ہوتا شفقت حیات شفق Shafqat Hayat Shafaq

Yeh Faisla Bhi Mere Uske Darmian Kar Dy Mujhe Sarab Bana , Usko Karwan Kar Dy

Image
یہ فیصلہ بھی مرے اس کے درمیاں کر دے مجھے سراب بنا، اس کو کارواں کر دے Yeh Faisla Bhi Mere Uske Darmian Kar Dy Mujhe Sarab Bana , Usko Karwan Kar Dy وہ لوٹ کر نہیں آتا تو انتقاماً ہی مجھے بھی اس کی فقط عمر رائگاں کر دے کسی طرح تو وہ شامل ہو زندگی میں مری جو ہو سکے تو اسے میری داستاں کر دے وہ آفتاب سہی اک نئے سویرے کا مجھے چراغ سے اٹھتا ہوا دھُواں کر دے بنا کے دھُوپ مجھے شب کی چاندنی دن کی مرے وجود میں مجھ کو کہیں نہاں کر دے میں شاخ سبز ہوں، مجھ کو اتار کاغذ پر مری تمام بہاروں کو بے خزاں کر دے

Udas Dil Ko Muhabbat Ka Aasra Dy Gi Woh Mujh Ko Chho Ke Mera Housla Barha Dy Gi

Image
اداس دل کو محبت کا آسرا دے گی وہ مجھ کو چھو کے میرا حوصلہ بڑھا دے گی Udas Dil Ko Muhabbat Ka Aasra Dy Gi Woh Mujh Ko Chho Ke Mera Housla Barha Dy Gi ذرا سی بات سہی اس کا دیکھنا لیکن ذرا سی بات میری نیند ہی اڑا دے گی وہ دم درود کی عادی ہے اور مجھے شک ہے وہ اپنا پیار مجھے گھول کر پلا دے گی تم اس کی روشنی تکنے میں گم نہ ہو جانا وہ ایک لو ہے تمہیں آگ بھی لگا دے گی تو میرے سامنے چپ رہنا اور دل کی بات تمہارے چہرے کی رنگت مجھے بتا دے گی کسی کے پیار کی مہندی لگا لے ہاتھوں پر مہک نہ دے گی مگر رنگ تو چڑھا دے گی میں جانتا ہوں وہ سڑیل مزاج ہے تحسینؔ مگر وہ میری غزل سن کے مسکرا دے گی یونس تحسین Younas Tahseen

Hairat Hai Sar e Dar Jo Masloob Raha Hai Us Shakhs Ka Har Dav Buhat Khoob Raha Hai

Image
  حیرت ہے سرِ دار جو مصلوب رہا ہے اس شخص کا ہر داؤ بہت خوب رہا ہے Hairat Hai Sar e Dar Jo Masloob Raha Hai Us Shakhs Ka Har Dav Buhat Khoob Raha Hai آج اس کی خموشی پہ نہ تم انگلی اٹھاؤ سنتے ہیں کہ وہ صاحبِ اسلوب رہا ہے اب وقت نے سب نقش بگاڑے ہیں وگرنہ یہ شہر مرے حُسن سے مرعوب رہا ہے اے چھوڑے ہوئے شخص مجھے دکھ ہے کہ تجھ سا کم ظرف مرے نام سے منسوب رہا ہے ہے اور کوئی کارِ اذیت تو بتاؤ کیا ہے کہ مرا عشق سے جی اوب رہا ہے اترا ہے ترے ہجر کا سیلاب رگوں میں دل آج کراچی کی طرح ڈوب رہا ہے کومل جوئیہ Komal Joya

Phir Chandni Ke Daam Mein Aany Ko Thay Gulab Sad Shukar Neend Khony Se Pehle Sanbhal Gaye

Image
پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے Phir Chandni Ke Daam Mein Aany Ko Thay Gulab Sad Shukar Neend Khony Se Pehle Sanbhal Gaye

Tooty Hoe Hein Woh Jo Rawabit , Bahal Kar Gar Ho Saky Tou Yaar Kabhi Mujh Ko Call Kar

Image
ٹوٹے ہوئے ہیں وہ جو روابط، بحال کر گر ہو سکے تو یار کبھی مجھ کو کال کر Tooty Hoe Hein Woh Jo Rawabit , Bahal Kar Gar Ho Saky Tou Yaar Kabhi Mujh Ko Call Kar زندہ ہے تیرے حُسن کا وہ لمس آج تک رکھی ہے تیرے جسم کی خوشبو سنبھال کر یہ آستیں نہیں ہے مرا گھر ہے دوستو رکھے ہوئے ہیں میں نے کئی سانپ پال کر کہتا تھا دل کے شہر میں تیرا ہی راج ہے بیٹھے ہیں غیر دیکھ لے مجھ کو نکال کر تُو محوِ رقص ہو کے کبھی وجد میں تو آ کھل کر کبھی تو جسم کے اندر دھمال کر ملتا ہے پیار یا کہ مجھے ہجر دوستو آ دیکھتے ہیں وصل کا سکہ اچھال کر دامن بچا رہے ہیں یہاں مستقل جواب اور تُویہ کہہ رہا ہے کہ کوئی سوال کر جو سامنے ہے اس سے زرا ہنس کے بات کر جو جا چکا ہے چھوڑ کر اس کا ملال کر اب آنسوؤں کا قرض بہت ہو چکا ادا اک بار مسکرا کے مجھے مالا مال کر تیرے بغیر اور کسی کو جو دیکھ لیں شہزاد پھینک دوں گا میں آنکھیں نکال کر ڈاکٹر فیصل شہزاد Dr Faisal Shehzad

Tumhara Zikar Kahein Jab Bhi Aany Lagta Hai Naya Khayal Koi Sar Uthane Lagta Hai

Image
تمھارا ذکر کہیں جب بھی آنے لگتا ہے نیا خیال کوئی سر اٹھانے لگتا ہے Tumhara Zikar Kahein Jab Bhi Aany Lagta Hai Naya Khayal Koi Sar Uthane Lagta Hai میں پچھلی بات کو دہرانے بیٹھ جاتی ہوں نئی وہ بات کوئی جب بتانے لگتا ہے تمام رات مرا دل لبھاتا رہتا ہے جو خواب دن چڑھے مجھ کو ڈرانے لگتا ہے گزر چکا ہوا ہوتا ہے وہ بہت پہلے نیا وہ واقعہ جب بھی سنانے لگتا ہے میں آئینے میں جھلک اس کی ڈھونڈتی ہوں مگر خیال اس کا تو آنکھیں دکھانے لگتا ہے میں اپنی نقل مکانی کو یاد کرتی ہوں کوئی بھی چھوڑ کے جب شہر جانے لگتا ہے میں روشنی کے جزیرے پہ رہ کے آئی ہوں بجھا دیا بھی مرا دل جلانے لگتا ہے وہ میری سمت لپکتا ہوا ہیولا کوئی تمھاری یاد کا منظر چرانے لگتا ہے بدن میں درد کو دیکھو کبھی بلکتا ہوا یہ کاٹ کاٹ کے جب ماس کھانے لگتا ہے تمام رنگ مرے ساتھ رقص کرتے ہیں مری غزل کو وہ جب گنگنانے لگتا ہے کبھی کبھی تو سحر لفظ روٹھ جاتے ہیں قلم لکیریں عجب سی بنانے لگتا ہے یاسمین سحر Yasmeen Sahar

Teri Khushbo Tera Lehja Main Kahan Se Laoun Tu Bata Dy Tere Jaisa Main Kahan Se Laoun

Image
تیری خوشبو تیرا لہجہ میں کہاں سے لاؤں تو بتا دے تیرے جیسا میں کہاں سے لاؤں Teri Khushbo Tera Lehja Main Kahan Se Laoun Tu Bata Dy Tere Jaisa Main Kahan Se Laoun چاند کو گھیر کے رکھتے ہیں ستارے ہر شب پھر بھلا چاند کو تنہا میں کہاں سے لاؤں چشم تر میں بھی رہے اور بھرم بھی رکھ لے ایسا ٹھہرا ہوا دریا میں کہاں سے لاؤں اس کی خواہش ہے تعلق کا کوئی نام نہ ہو ایسا بے نام سا رشتہ میں کہاں سے لاؤں جذب کر لے مجھے خود میں جو سما لے مجھ کو خشکیوں میں وہ جزیرہ میں کہاں سے لاؤں کھینچ لائے جو گناہوں کے سمندر سے مجھے اک ندامت کا وہ قطرہ میں کہاں سے لاؤں مینا خان Meena Khan

Kisi din us se milne par, kaha tha nazm likhunga Teri ghani zulf par, tere shokh rukhsaar par

Image
किसी दिन उस से मिलने पर, कहा था नज़्म लिखूंगा तेरी घनी ज़ुल्फ़ पर, तेरे शोख रुखसार पर तेरी मखमूर आंखों पर, तेरी मासूम मुस्कुराहट पर तेरी ज़ुल्फ़ के पेच-ओ-खाम पर, तेरे होठों की सुर्खी पर तेरी सांसों की गर्मी पर, तेरी हर शाख-ए-बदन पर तेरे हाथों के कंगन पर, तेरी पाज़ेब की छमछम पर तेरे रुकने पर, तेरे चलने पर, कहा था एक नज़्म लिखूंगा वो अब जब मिलती है, ये कहती है धीरे से वो मेरी नज़्म लाये हो ? के फिर भूल आये हो ? उसे क्या मालूम के जब भी लिखने लगता हूँ तो तुझे याद करता हूँ और तुझे याद करता हूँ तो सब कुछ भूल जाता हूँ Kisi din us se milne par, kaha tha nazm likhunga Teri ghani zulf par, tere shokh rukhsaar par Teri makhmoor ankho par, teri masoom muskurahat par Teri zulf ke pech-o-kham par, tere hontho ki surkhi par Teri sanso ki garmi par, teri har shakh-e-badan par Tere hatho ke kangn par, teri paazeb ki chhamchham par Tere rukne par tere chalne par kaha tha ek nazm likhunga Woh ab jab milti hai ye kahti hai dheere se Wo meri nazm laaye ho ? Ke phir bhul aaye ho ? Usey kya maloom ke jab bhi likhne ...

Dil mein jo dil ban ke dhadke Gaye to na dekha zara mud ke

Image
दिल में जो दिल बन के धड़के गए तो न देखा ज़रा मूड के रह गई मन की डगर पे धूल सी यादों की उड़ती यहां जिंदगी कैसी है पहेली हाए Dil mein jo dil ban ke dhadke Gaye to na dekha zara mud ke Rah gayi mann ki dagar pe dhool si yaado ki udti yaha Zindgi kaisi hai paheli haaye

What will be more beautiful than this for me?? I found shelter in your eyes

Image
What will be more beautiful than this for me?? I found shelter in your eyes What will be more beautiful than this for me?? I have found shelter in your eyes

Nigah naaz SE pochen ge kise din ye zaheen, Tu ne Kiya Kiya na banaya koi Kiya Kiya na Bana

Image
نگہِ ناز سے پوچھیں گے کسی دن یہ ذہین تُو نے کیا کیا نہ بنایا کوئی کیا کیا نہ بنا Nigah naaz SE pochen ge kise din ye zaheen, Tu ne Kiya Kiya na banaya koi Kiya Kiya na Bana

Munsif Ho Qabeely Ke , Khatakar Ko Pakdo Insaf Jo Karna Hai Tou Sardar Ko Pakdo

Image
منصف ہو قبیلے کے ، خطا کار کو پکڑو انصاف جو کرنا ہے تو سردار کو پکڑو Munsif Ho Qabeely Ke , Khatakar Ko Pakdo Insaf Jo Karna Hai Tou Sardar Ko Pakdo دیوار کو تھامو گے تو گرنے سے بچے گی یہ کس نے کہا سایہ ء دیوار کو پکڑو کیوں تم نے لگا رکھا ہے دو طرفہ تماشا یا تخت کے ہو جاؤ یا پھر دار کو پکڑو محسوس جو کرنی ہو کبھی لمس کی لذت تو ہاتھ بڑھا کر کسی بیمار کو پکڑو کھل جائے گی تم پر بھی لکھاری کی حقیقت بس اس کے لکھے ادنٰی سے کردار کو پکڑو للکار سنو اب تو ذرا کوئے بتاں کی اب حیدرِ کرار کی تلوار کو پکڑو اغیار کی تقلید میں رسوا ہی رہو گے اسلاف کے چھوڑے ہوئے افکار کو پکڑو جاویدجدون Javed Jadoon

Badan Ki Sarzameen Par Tou Hukamran Aur Hai Magar Jo Dil Mein Bas Raha Hai Meharban Aur Hai

Image
بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے مگر جو دل میں بس رہا ہے مہربان اور ہے Badan Ki Sarzameen Par Tou Hukamran Aur Hai Magar Jo Dil Mein Bas Raha Hai Meharban Aur Hai جو مُجھ سے منسلک ہُوئیں کہانیاں کُچھ اور تھیں جو دِل کو پیش آئی ہے وہ داستان اور ہے یہ مرحلہ تو سہل تھا محبتوں میں وصل کا ابھی تمہیں خبر نہیں کہ امتحان اور ہے وہ دن کدھر گئے مِرے وہ رات کیا ہوئی مِری یہ سرزمین نہیں ہے وہ یہ آسمان اور ہے وہ جس کو دیکھتے ہو تم ضرورتوں کی بات ہے جو شاعری میں ہے کہیں وہ خُوش بیان اور ہے جو سائے کی طرح سے ہے وہ سایہ دار بھی تو ہے مگر ہمیں ملا ہے جو وہ سائبان اور ہے نوشی گیلانی Noshi Gailani

Wasal Majboor Hai , Majboor Bhi Acha Khasa Mujh Se Woh Door Hai , Aur Door Bhi Acha Khasa

Image
وصل مجبور ہے ، مجبور بھی اچھا خاصا مجھ سے وہ دور ہے ، اور دور بھی اچھا خاصا Wasal Majboor Hai , Majboor Bhi Acha Khasa Mujh Se Woh Door Hai , Aur Door Bhi Acha Khasa کرنی پڑتی ہے مشقت اسے بے اجرت ہی عشق مزدور ہے ، مزدور بھی اچھا خاصا کوئی بتلائے اسے کیسے میں عاجز کر دوں وہ جو مغرور ہے ، مغرور بھی اچھا خاصا اس نے چہرے سے فقط اپنے ہٹائیں زلفیں ہر طرف نور ہے اور نور بھی اچھا خاصا شیخ آیا تھا جو رندوں کو نصیحت کرنے اب وہ مخمور ہے ، مخمور بھی اچھا خاصا ہجر کاندھوں پہ اٹھا رکھا ہے تیرا جب سے یہ بدن چُور ہے اور چُور بھی اچھا خاصا اب اسے تجھ سے سروکار نہیں ہے جاوید اب وہ مشہور ہے ، مشہور بھی اچھا خاصا جاویدجدون Javed Jadoon

Yeh Alag Baat ! Bany , Ya Na Bany Taj Mahal Ishq , Ma'ashooq Ko 'MUMTAZ' Bana Daita Hai

Image
‏یہ الگ بات ! بنے، یا نہ بنے تاج محل عشق، معشوق کو 'ممتاز' بنا دیتا ہے Yeh Alag Baat ! Bany , Ya Na Bany Taj Mahal Ishq , Ma'ashooq Ko 'MUMTAZ' Bana Daita Hai

Humare Dil Mein Kahein Dard Hai ? Nahi Hai Na Humara Chehra Bhala Zard Hai ? Nahi Hai Na

Image
ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا Humare Dil Mein Kahein Dard Hai ? Nahi Hai Na Humara Chehra Bhala Zard Hai ? Nahi Hai Na سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے' بچھڑتے ہوئے ہمارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے ؟ نہیں ہے نا سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا کوئی دلوں کے معالج ' کوئی محمّد بخش تمام شہر میں اِک مرد ہے ؟ نہیں ہے نا وہی ہے درد کا درماں بھی' افتخار مغل کہیں قریب وہ بے درد ہے ؟ نہیں ہے نا ( اِفتخار مُغل ) (Iftekhar Moghal)

Haath Chootein Bhi Tou ReshtyNahi Choda Karte Waqt Ki Shakh Se Lamhy Nahi Toda Karte

Image
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے Haath Chootein Bhi Tou ReshtyNahi Choda Karte Waqt Ki Shakh Se Lamhy Nahi Toda Karte جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جو بہتا ہے اسے بہنے دو ایسے دریا کا کبھی رخ نہیں موڑا کرتے جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں اس طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے شہد جینے کا ملا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا جانے والوں کے لیے دل نہیں تھوڑا کرتے جا کے کہسار سے سر مارو کہ آواز تو ہو خستہ دیواروں سے ماتھا نہیں پھوڑا کرتے

Doob Jaye Na Meri Nav , Bachaly Mujh Ko Yun Na Kar Dard Ki Lehron Ke Hawaly Mujh Ko

Image
ڈوب جائے نہ مری ناؤ , بچا لے مجھ کو یوں نہ کر درد کی لہروں کے حوالے مجھ کو Doob Jaye Na Meri Nav , Bachaly Mujh Ko Yun Na Kar Dard Ki Lehron Ke Hawaly Mujh Ko میں کسی اجڑی ہوئی شاخ کا ٹوٹا پتا کوئی روندے یا سمیٹے کہ جلالے مجھ کو بھول جاؤنگی غم ِ ہجر کی تلخی یکسر صرف اک بار گلے آ کے لگا لے مجھ کو ہنس کے ہر درد کے صحرا سے گزر کر آئی روک پائے نہ یہ رِ ستے ھوئے چھالے مجھ کو روٹھنے والے تو اب اتنی بھی تاخیر نہ کر وقت کی گرد ہی نہ تجھ سے چھپا لے مجھ کو دل کے صحرا کو نہ مل جا ئے برستا بادل تو کسی زُعم میں کھو دے نہ ، بچا لے مجھ کو میں اذیت کے کٹہر ے میں ہوں چپ چاپ کھڑی طعنہ دیتے ہیں زباں پر لگے تالے مجھکو ایک وعدے میں ہر اک سانس پڑی ھے گروی کوئی لفظوں کی اذیت سے نکالے مجھ کو اب نہ کھولوں گی کبھی ضبط کے بندھن مولا جس کا دل چاہے وہی آکے ستا لے مجھ کو میری گستاخ مزاجی سے ھے برہم دنیا کر یہ احسان تو دنیا سے اٹھا لے مجھ کو فوزیہ شیخ Fozia Sheikh

Aks Dar Aks Khula Aik Hi Chehra Nikla Woh Tabia'at Mein Samandar Se Bhi Gehra Nikla

Image
عکس در عکس کھلا ایک ہی چہرہ نکلا وہ طبیعت میں سمندر سے بھی گہرا نکلا Aks Dar Aks Khula Aik Hi Chehra Nikla Woh Tabia'at Mein Samandar Se Bhi Gehra Nikla میں نے رخ موڑ دیا اپنی تمناؤں کا کسی منزل کی طرف جب کوئی رستہ نکلا ٹوٹ پایا نہ کسی طور ملایا ہم کو کیسا ہم تم میں کوئی پیار کا رشتہ نکلا میں حقیقت کے قریب اس لئے بھی ہوتی گئی جو مرا خواب تھا تعبیر میں جھوٹا نکلا منفرد میں ہی تھی بس ورنہ مری دنیا میں جو بھی انسان تھا وہ ایک ہی جیسا نکلا میں اسے ڈھونڈنے کس را ہگزر تک آئی پیچھے دریا تو مرے سامنے صحرا نکلا جس کو تعبیر کیا میں نے ترے نام کے ساتھ وہ مری آنکھ کا ٹوٹا ہوا سپنا نکلا کسی منزل کا تعین بھی کچھ آسان نہ تھا اس مسافت کا تو ہر موڑ ہی اندھا نکلا ایک کمزور تعلق کےنبھانے میں سحر مجھ سے مضبوط مرے دل کا ارادہ نکلا یاسمین سحر Yasmeen Sahar

Kabhi Intezar Lamha Sar e Sham Rakh Diya Hai Kabhi Dil Utha Ke Hum Ne , Tere Nam Rakh Diya Hai

Image
کبھی انتظار لمحہ سرِ شام رکھ دیا ھے کبھی دل اٹھا کے ہم نے ، ترے نام رکھ دیا ھے Kabhi Intezar Lamha Sar e Sham Rakh Diya Hai Kabhi Dil Utha Ke Hum Ne , Tere Nam Rakh Diya Hai کبھی جسم و جاں جلا کے تری رہ گزر سجا دی کبھی دل چراغ جیسا لبِ بام رکھ دیا ھے ترے رُخ کی چاندنی کا ، کبھی نام صبح رکھا تری چشمِ سُر مگیں کا ، کبھی شام رکھ دیا ھے مرے شعر شعر میں ہیں ترے خدّ و خال روشن ترا نقش نقش ہم نے سرِ عام رکھ دیا ھے تجھے سانس سانس بُننا ، یہی مشغلہ ھے دل کا یہی بندگی چُنی ھے یہی کام رکھ دیا ھے

Woh Mere Dost Hein Dildar Nahi Hone Ke Dasht Tou Dasht Hein Gulzar Nahi Hone Ke

Image
وہ مرے دوست ہیں دلدار نہیں ہونے کے دشت تو دشت ہیں گلزار نہیں ہونے کے Woh Mere Dost Hein Dildar Nahi Hone Ke Dasht Tou Dasht Hein Gulzar Nahi Hone Ke اب نباہیں گے کہاں تک وہ تعلّق ہم سے غیر تو غیر ہیں وہ یار نہیں ہونے کے وہ کہ ہر روز ہی تجدید وفا کرتے ہیں ہم کسی طور بھی بیزار نہیں ہونے کے ڈوبتے شخص کو تنکے کا سہارا ہے بہت وہ مرے واسطے پتوار نہیں ہونے کے بجلیوں نے تو نشیمن پہ نگاہ ڈالی ہے روشنی دیکھ کر بیدار نہیں ہونے کے یوں تو پڑھتے ہیں ترنّم سے غزل محفل میں وہ تو شاعر ہیں گلوکار نہیں ہونے کے وہ ابھی تک ہیں زمانے کی نظر میں معصوم کچھ بھی کرلو کبھی عیار نہیں ہونے کے میں نے سمجھا تھا کسی طور منالوں گا مگر وہ مری بات پہ تیّار نہیں ہونے کے میں نے شاہدٓ بہت اخلاص سے چاہا ہے انہیں پھول تو پھول ہیں وہ خار نہیں ہونے کے ہارون شاہدٓ Haroon Shahid

Kabhi Dilbar Kabhi Dushman Kabhi Dildar Ho Jana Kahan Se Tum Ne Seekha Hai Bada Bezar Ho Jana

Image
کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا Kabhi Dilbar Kabhi Dushman Kabhi Dildar Ho Jana Kahan Se Tum Ne Seekha Hai Bada Bezar Ho Jana کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چُھڑا لینا کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا کبھی میری مُحَبت میں گُل و گُلزار ہو جانا

Mujhe Dard DilKi Dawa Chahiye Thi Faqat Piyar Ki Ik Nigah Chahiye Thi

Image
مجھے دردِ دل کی دوا چاہیے تھی فقط پیار کی اک نگاہ چاہیے تھی Mujhe Dard DilKi Dawa Chahiye Thi Faqat Piyar Ki Ik Nigah Chahiye Thi کھڑے ہو مِرے دُشمنوں کی صفوں میں تمہیں مجھ سے کرنی وفا چاہیے تھی رہا چاند تب تب چُھپا بادلوں میں اندھیروں میں جب جب ضیا چاہیے تھی خدا سے دعاؤں میں تم کو ہی مانگا کوئی کب تمہارے سِوا چاہیے تھی کِیے لال پِھرتے ہیں میرے لہو سے ہتھیلی پہ اُن کو حنا چاہیے تھی نہیں تھا تمہاری محبت کا طالب مجھے بس تمہاری دعا چاہیے تھی نِکلنا پڑا بزمِ یاراں سے ذُلفی گُھٹن ہو رہی تھی , ہوا چاہیے تھی ذوالفقار علی ذُلفی Zulfiqar Ali Zulfi

Koi Khuwab Dasht e Firaq Mein Sar e Sham Chehra Kusha Hoa Meri Chishm e Tar Mein Ruka Nahi Keh Tha Rutjagon Ka Dasa Hoa

Image
کوئی خواب دشتِ فراق میں سرِ شام چہرہ کشا ہُوا مِری چشمِ تر میں رُکا نہیں کہ تھا رَتجگوں کا ڈسا ہُوا Koi Khuwab Dasht e Firaq Mein Sar e Sham Chehra Kusha Hoa Meri Chishm e Tar Mein Ruka Nahi Keh Tha Rutjagon Ka Dasa Hoa مِرے دِل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گُل فشاں وہی ایک لفظ جو آپ نے مِرے کان میں ہے کہا ہُوا

Jo Lagan Ke Baghair Mil Jaye Par Nahi Hota Kuch Bhi Ho , Ma'at

Image
جو لگن کے بغیر مل جائے کچھ بھی ہو، معت بر نہیں ہوتا Jo Lagan Ke Baghair Mil Jaye Par Nahi Hota Kuch Bhi Ho , Ma'at ہجر جیسے ہو دھوپ صحرا کی چھاؤں میں یہ سفر نہیں ہوتا عاصمہ فراز Asima Faraz

Lejiye Hum Se Bakamal Log Bhi Aam Ho Gaye Jin Se Gurez Tha Humain , Hum Se Woh Kam Ho Gaye

Image
لیجیے ہم سے با کمال لوگ بھی عام ہو گئے جن سے گریز تھا ہمیں، ہم سے وہ کام ہو گئے Lejiye Hum Se Bakamal Log Bhi Aam Ho Gaye Jin Se Gurez Tha Humain , Hum Se Woh Kam Ho Gaye آپ کی بد دعائے دل آخر اثر دکھا گئی ہم کو بھی عشق ہو گیا، ہم بھی غلام ہو گئے چادر احتیاط آج سر سے ہوا جو لے اڑی زلف کے سارے پیچ و خم منظر عام ہو گئے باغ بدن میں ہر طرف کلیاں چٹک چٹک گئیں باد صبا چلی تو ہم خوشبو خرام ہو گئے آپ سے آپ چھٹ گئے ابر گھنیر ہجر کے ہم بھی شب سیاہ سے ماہ تمام ہو گئے معجزہ یہ نہیں تو کیا، نظریں ملیں، نہ بات کی پھر بھی سلام ہو گئے، پھر بھی پیام ہو گئے یہ کار عشق کا سفر ایسے علیناؔ طے ہوا دل ان کا ہم نے رکھ لیا، خود ان کے نام ہو گئے علیناؔ عترت Aleena Itrat

Firaq Yaar Ke Lamhe Guzar Hi Jaeingy Chaday Hoe Hein Jo Darya , Utar Hi Jaeingy

Image
فراق یار کے لمحے گزر ہی جائیں گے چڑھے ہوئے ہیں جو دریا، اتر ہی جائیں گے Firaq Yaar Ke Lamhe Guzar Hi Jaeingy Chaday Hoe Hein Jo Darya , Utar Hi Jaeingy تمام رات در میکدہ پہ کاٹی ہے سحر قریب ہے، اب اپنے گھر ہی جائیں گے تو میرے حال پریشاں کا کچھ خیال نہ کر جو زخم تو نے لگائے ہیں، بھر ہی جائیں گے میان دار و شبستان یار بیٹھے ہیں جدھر اشارۂ دل ہو، ادھر ہی جائیں گے جلوس ناز کبھی تو ادھر سے گزرے گا کبھی تو دل کے مقدر سنور ہی جائیں گے یہی رہے گا جو انداز نا شناسائی تمہارے چاہنے والے تو مر ہی جائیں گے ابھی چھڑی بھی نہ تھی داستان عہد وفا کسے خبر تھی کہ وہ یوں مکر ہی جائیں گے جمال یار کی نادیدہ خلوتوں میں ظہیرؔ اگر گئے تو یہ آشفتہ سر ہی جائیں گے ظہیرؔ کاشمیری Zaheer Kashmiri

Mujh Mein Apne Khuwab Ki Halchal Hone Dy Dard Mein Thoda Raqs Bhi Har Pal Hone Dy

Image
مجھ میں اپنے خواب کی ہلچل ہونے دے درد میں تھوڑا رقص بھی ہر پل ہونے دے Mujh Mein Apne Khuwab Ki Halchal Hone Dy Dard Mein Thoda Raqs Bhi Har Pal Hone Dy اک دوجے کے عکس بنا کر ہم جھومیں کوئی تو تصویر مکمل ہونے دے میں کہتی ہوں، سوچ سمجھ کے بولا کر وہ کہتا ہے، مجھ کو پاگل ہونے دے کتنی مدت بعد یہ بادل آئے ہیں برکھا رت میں کچھ تو جل تھل ہونے دے بہہ جانے دے ہجر کا ساون آنکھوں سے پھیکا ہوتا ہے تو کاجل ہونے دے منزہ سحر Munaza Sahar

Mere Sawal Ka Koi Jawab Hai Hi Nahi Aur Is Peh Koi Mujhe Izterab Hai Hi Nahi

Image
مرے سوال کا کوئی جواب ہے ہی نہیں اور اس پہ کوئی مجھے اضطراب ہے ہی نہیں Mere Sawal Ka Koi Jawab Hai Hi Nahi Aur Is Peh Koi Mujhe Izterab Hai Hi Nahi یہ زندگی ہے کہ چبھتی ہوئی مسافت ہے کہ پاؤں ننگے ہیں اور اجتناب ہے ہی نہیں جو اس کے قرب میں جائے گا، جان جائے گا کہ لمسِ ناز سے بہتر سراب ہے ہی نہیں وہ چاہتا ہے مجھے ٹوٹتا ہوا دیکھے اگر چہ مجھ میں بکھرنے کا باب ہے ہی نہیں جسے بھی دیکھو، دعا دے رہا ہے جینے کی وہ زندگی جو مرا انتخاب ہے ہی نہیں حضور آپ کے کہنے پہ مان لیتے ہیں ہمی خراب ہیں، دنیا خراب ہے ہی نہیں کسی کو تا بہ ابد پوجتے رہے ہم لوگ یہ جانتے ہوئے اس کا ثواب ہے ہی نہیں وہ بے بسی ہے کہ میرے علاوہ اب ناسف کوئی بھی شخص مجھے دستیاب ہے ہی نہیں خبیب ناسف Khubaib Naasief

Yahi Sadgi Mera Maan Hai Unhein Khud Sarai Peh Naz Hai Woh Haram Hai Mere Wastay , Unhein Jis Kamai Peh Naz Hai

Image
یہی سادگی مرا مان ہے اُنہیں خود سرائی پہ ناز ہے وہ حرام ہے مرے واسطے، اُنہیں جس کمائی پہ ناز ہے Yahi Sadgi Mera Maan Hai Unhein Khud Sarai Peh Naz Hai Woh Haram Hai Mere Wastay , Unhein Jis Kamai Peh Naz Hai مجھے بخششوں کا ہے آسرا،وہ نوازشوں کی طلب میں ہیں مجھے ہر گناہ پہ رنج ہے اُنہیں پارسائی پہ ناز ہے یہ جو آدمی کی خدائی ہے یہ تو آدمی نے بنائی ہے جو تری خدائی ہے اے خدا، مجھے اُس خدائی پہ ناز ہے نہ دلیل دے کے ڈرا مجھے، کوئی مصلحت نہ سکھا مجھے میں علی کے در کا فقیر ہوں، مجھے اس گدائی پہ ناز ہے مرا زائچہ ہی عجیب تھا تُو نہیں ملا، یہ نصیب تھا ترے شہر میں ترے نام پر ملی جگ ہنسائی پہ ناز ہے اسی واسطے سے ہوں باخبر میں ترے نکھرتے جمال سے مجھے تیرے شہر کے شاعروں سے بنی بنائی پہ ناز ہے احمد خلیل خان Ahmad Khalil Khan

Seenay Mein Khanakta Hai Musalsal Koi Saga Daikhonga Kisi Roz Yeh Kashkol Ulat Kar

Image
سینے میں کھنکتا ہے مُسلسل کوئی سکّہ دیکھوں گا کسی روز یہ کشکول اُلٹ کر Seenay Mein Khanakta Hai Musalsal Koi Saga Daikhonga Kisi Roz Yeh Kashkol Ulat Kar جس وقت سے مَیں ہجر کے تالاب میں اُترا خُوں چوستی رہتی ہے کوئی جونک چمٹ کر کیا کیا نظر آتا تھا مجھے دُھول میں تیری دُھندلا دیا آنکھوں کو تری گرد نے چھٹ کر اس کوہِ زماں پر ہوں جہاں ربط ہے دُشوار آتی ہے تری یاد کی آواز بھی کٹ کر مَیں ایسا قد آور نہیں اُس پر مِرا سایہ ہنستا ہے مجھی پر کبھی بڑھ کر، کبھی گھٹ کر دُنیا کہاں جاتی ہے، تری ایسی کی تیسی ملِتا ہوں مَیں تجھ سے بھی ذرا خُود سے نمٹ کر سعید شارق Saeed Shariq

Ajnabi Shehar Lagy Soorat e Zandan Mujh Ko Ly Chal Ae Mouj e Hawa , Sooye e Bayan Mujh Ko

Image
‏اجنبی شہر لگے صُورتِ زنداں مُجھ کو لے چل اے موجِ ہَوا، سُوئے بیاباں مُجھ کو Ajnabi Shehar Lagy Soorat e Zandan Mujh Ko Ly Chal Ae Mouj e Hawa , Sooye e Bayan Mujh Ko رات آئے تو تِرے درد کی رُت بھی آئے چاند نِکلے تو کرے دِل بھی پریشاں مُجھ کو مَیں بھی بُجھنے کو ہُوں اے قتل گہِ شہر مگر یاد رکھے گی تِری شامِ غریباں مُجھ کو لوٹ آیا ہُوں نصیبِ غمِ یاراں بن کر راس آئی نہ ہَوائے غمِ دَوراں مُجھ کو تُو کہ دریا پہ برستا ہے، نہ صحراؤں میں اپنی منزل تو بتا ابرِ گریباں مُجھ کو یُوں بھی رُسوا تھی بہت خلوتِ دِل کی خُواہش تیری چاہت نے کیا اور نمایاں مُجھ کو اپنا گھر کِتنا ہی وِیراں ہو پھر اپنا گھر ہے بسترِ خاک لگے تختِ سُلیماں مُجھ کو جانتا ہُوں مَیں خد و خال کی قیمت محسنؔ آئینہ کر نہ سکے گا کبھی حیراں مُجھ کو محسنؔ نقوی Mohsin Naqvi

Aap Pehlo Mein Jo Baithein Tou Sanbhal Kar Baithein Dil Betab Ko Aadat Hai Machal Jane Ki

Image
آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی Aap Pehlo Mein Jo Baithein Tou Sanbhal Kar Baithein Dil Betab Ko Aadat Hai Machal Jane Ki

Muhabbaton Ke Safar Mein Juda Nahi Hote Hum Aise Log Kabhi Bewafa Nahi Hote

Image
محبتوں کے سفر میں جدا نہیں ہوتے ہم ایسے لوگ کبھی بیوفا نہیں ہوتے Muhabbaton Ke Safar Mein Juda Nahi Hote Hum Aise Log Kabhi Bewafa Nahi Hote جو صرف باتوں کے جادو سے دل لبھاتے ہیں وہ دردِ دل کی تو ہرگز دوا نہیں ہوتے ہزار بار بھی ملنے سے دل نہیں ملتے وہ ہمسفر تو کبھی ہم نوا نہیں ہوتے خزاں کی طرح گراتے ہیں خواب کے پتے وہ لوگ صحنِ چمن کی ادا نہیں ہوتے ہوائے عصر بدلنے کو ہے خبر کر دو پرانے نقش یہاں پر روا نہیں ہو تے وہ لوگ جن کو میسر ہے ریشم و اطلس وہ دردِ دل سے کبھی آشنا نہیں ہوتے ہم اپنی بھوک کو غزلوں میں ڈھال دیتے ہیں سخن کے دیپ کبھی بے نوا نہیں ہوتے فرح خان Farah Khan

Waqt Rukhsat Woh Chupane Laga Aankhein Apni Us Ne Mod Kar Nahi Daikha Tha Dobara Mujh Ko

Image
وقت رخصت وہ چھپانے لگا آنکھیں اپنی اس نے مڑکر نہیں دیکھا تھا دوبارہ مجھ کو Waqt Rukhsat Woh Chupane Laga Aankhein Apni Us Ne Mod Kar Nahi Daikha Tha Dobara Mujh Ko خائستہ میر Khaista Meer

Ae Mere Dost Main , Tou Waqif Hon Hansty Hansty Jo Teri Aankh Chalak Aai Hai

Image
اے مرے دوست میں، تو واقف ہوں ہنستے ہنستے جوتری آنکھ چھلک آئی ہے کچھ نہ کہنا بھی تو اندازِ شناسائی ہے چار جانب جو بنائی ہے یہ حدِ فاصل اِس میں کرنوں سے محبت کا جھروکہ ہے ﮐﻭئی کوئی تو راز ہے پھر شام نکھر آئی ہے Ae Mere Dost Main , Tou Waqif Hon Hansty Hansty Jo Teri Aankh Chalak Aai Hai اے مرے دوست میں، تو واقف ہوں گو کہ پیمانۂ احساس بہت دُور سہی تیرا دل مجھ سے، مرا تجھ سے ہے رنجور سہی راستے دُور سہی، زخموں سے دل چور سہی پھر بھی اِک شاخ ہری دل میں اتر آئی ہے کوئی تو راز ہے پھر شام نکھر آئی ہے اے مرے دوست، میں تو واقف ہوں تو جو ہر جذب کی منزل سے گزر جاتا ہے کھوٹے سکوں کی تجارت کے بہانے خود کو رات دن خوابوں کے امکان سے بہلاتا ہے جاگزیں دل میں ترے درد کی پہنائی ہے کوئی تو راز ہے پھر شام نکھر آئی ہے اے مرے دوست، میں تو واقف ہوں شام اِس بار جو مہکی ہے تری دنیا میں میں دعا گو ہوں، ترے دل کو قرار آ جائے زندگی کیف و ترنّم کا ّتبسم لے کر ایسے مہکے، ترے آنگن میں بہار آ جائے زیرِ لب تیرے لبوں پر جو ہنسی آئی ہے کوئی تو راز ہے پھر شام نکھر آئی ہے اے مرے دوست، میں تو واقف ہوں شائستہ مفتی Shaista Mufti

Nan Tera Har Dard Da Hal Ae Sachi Gak Ae Par Har Gal Wich Tere Chal Ae , Sachi Gal Ae

Image
ناں تیرا ہر درد دا حل اے سچی گل اے پر ہر گل وچ تیرے چھل اے، سچی گل اے Nan Tera Har Dard Da Hal Ae Sachi Gak Ae Par Har Gal Wich Tere Chal Ae , Sachi Gal Ae عشق دے باجھوں جھوٹی دنیا کُوڑی دنیا پیار ای سَچا سُچا عمل اے، سچی گل اے ہر اک اکھر تیرے ناں توں تیرے ناں تک تینوں سوچ کے لکھی غزل اے، سچی گل اے لشکاں مار دا تیرامکھڑا انج لگدا اے جھیل چ جیویں کھڑ دا کنول اے، سچی گل اے کون محبت آلی رمز نوں ایتھے سمجھیا ڈونگی گل اے، سُچی گل اے، سچی گل اے میں تاں زیب عروجے اکو گل پرکھی اے ہجر فراق دا ڈونگا تھل اے، سچی گل اے عروج زیب Arooj Zeb

Kuch Is Liye Rehaai Ka Aata Nahi Khayal Gham Se Kushada Aur Koi Bhi Qafas Nahi

Image
کُچھ اس لیے رہائی کا آتا نہیں خیال غم سے کُشادہ اور کوئی بھی قفس نہیں Kuch Is Liye Rehaai Ka Aata Nahi Khayal Gham Se Kushada Aur Koi Bhi Qafas Nahi سعید شارق Saeed Shaariq

Taweel Raat , Udasi , Ghutan , Baraye Firokht Tamam Mojab Kar e Sukhan Baraye Firokht

Image
طویل ﺭﺍت، اداسی، گھٹن، برائے فروخت تمام موجب کارِ سخن برائے فروخت Taweel Raat , Udasi , Ghutan , Baraye Firokht Tamam Mojab Kar e Sukhan Baraye Firokht تمھارے لمس کا ریشم پہن نہ پائے دیکھ جبیں پہ لکھ لیا ہم نے، بدن برائے فروخت پرائے جسم کا ملبہ خرید لائے آپ ہمارے پاس بھی تھا ایک من برائے فروخت زباں درازیاں کرتے ہوئے ہجوم کے بیچ کسی کے پاس ہے کیا بہرا پن برائے فروخت یہ کس طرح کی رَوِش چل پڑی ہمارے شہر جگہ جگہ ہے لکھا مرد و زن برائے فروخت ہمارے جسم پہ سجتی نہیں قبائے عشق ہمارے جسم کا یہ پیرہن برائے فروخت سبھی کو چاہیے ہنسنے کی وجہ اور فیضان تمھارے پاس ہے رونے کا فن برائے فروخت فیضان احمد فیضی Faizan Ahmad Faizi

Yeh Kaisa Mod Aa Pahoncha Hai Teri Rahguzar Mein Main Thak Kar Gir Pada Hoon , Mera Chal Raha Hai

Image
یہ کیسا موڑ آ پہنچا ہے تیری رہگزر میں مَیں تھک کر گِر پڑا ہوں، میرا سایہ چل رہا ہے Yeh Kaisa Mod Aa Pahoncha Hai Teri Rahguzar Mein Main Thak Kar Gir Pada Hoon , Mera Chal Raha Hai سعید شارق Saeed Shaariq

Tum Se Kia Guftgo Aaghaz Hoi Aik Dunya Meri Humraz Hoi

Image
تم سے کیا گفتگو آغاز ہوئی ایک دنیا مری ہمراز ہوئی Tum Se Kia Guftgo Aaghaz Hoi Aik Dunya Meri Humraz Hoi رزق پنجرے میں لکھا ہے میرا کم نہیں قوت ـپرواز ہوئی شاخ پر رہنے دیا میں نے گلاب اچھی لگتی تھی وہ ناراض ہوئی چاند پانی سے نمودار ہوا روشنی اور بھی ممتاز ہوئی رات وہ دیپ جلائے اس نے شمع محفل نظر انداز ہوئی اظہر فراغ Azhar Fragh

Yun Bheench Ke Rakha Hai Teri Yaad Ka Sekha Ab Kholna Chahon Bhi Tou Muthi Nahi Khulti

Image
یُوں بھینچ کے رکھا ہے تری یاد کا سِکّہ اب کھولنا چاہوں بھی تو مُٹّھی نہیں کھُلتی Yun Bheench Ke Rakha Hai Teri Yaad Ka Sekha Ab Kholna Chahon Bhi Tou Muthi Nahi Khulti سعید شارق Saeed Shariq